تم سے مل کر

Episode 1

رات کے تقریباً آٹھ بج رہے تھے۔ باہر ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ سڑک پر گاڑیوں کی روشنیاں گیلی سڑک پر بکھر رہی تھیں، جبکہ کھڑکی کے شیشے پر بارش کے قطرے مسلسل پھسل رہے تھے۔

ماہین کھڑکی کے پاس بیٹھی خاموشی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں فون تھا، مگر پچھلے دس منٹ سے اس کی اسکرین پر ایک ہی تصویر کھلی ہوئی تھی۔ امی کا میسج۔

"ماہین، دیر مت کرنا۔ حیان بھی وہاں پہنچ چکا ہے۔" ماہین نے میسج پڑھا اور فوراً منہ بنا لیا۔ "حیان..." اس نے آہستہ سے نام دہرایا۔

اس نام سے اسے پہلے ہی عجیب سی چڑ تھی، حالانکہ اس کی حیان سے صرف ایک ہی ملاقات ہوئی تھی۔

اور وہ ملاقات بھی کوئی خاص اچھی نہیں رہی تھی۔ "ماہین!" عائزہ کی آواز نے اسے چونکا دیا۔ "کیا ہوا؟" "تم پھر کھو گئی ہو۔" ماہین نے فون بند کرتے ہوئے کہا۔ "کچھ نہیں۔" عائزہ مسکرائی۔ "حیان کے بارے میں سوچ رہی تھیں؟" "بالکل نہیں!" ماہین نے فوراً جواب دیا۔ عائزہ ہنس پڑی۔ "میں نے نام بھی نہیں لیا تھا۔" ماہین چند لمحوں کے لیے خاموش رہی۔ پھر تکیہ اٹھا کر عائزہ کی طرف پھینکا۔ "تم بہت زیادہ بولنے لگی ہو۔"

"اور تم بہت زیادہ چھپانے لگی ہو۔" دونوں ہنسنے لگیں۔ مگر ماہین کے دل کے کسی کونے میں واقعی حیان کا خیال موجود تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی کیوں۔

شاید اس لیے کہ پہلی ملاقات میں حیان نے اسے نظر انداز کیا تھا۔

اور شاید اس سے بھی زیادہ اس لیے کہ ماہین کو کسی کا اسے نظر انداز کرنا بالکل پسند نہیں تھا۔

گاڑی ایک بڑے سے گھر کے سامنے جا کر رک گئی۔ ماہین نے گہری سانس لی۔ "بس، اب شروع ہوگا ڈرامہ۔" عائزہ نے اس کی طرف دیکھا۔ "کون سا؟" "حیان والا۔" "تمہیں اس سے اتنی شکایت کیوں ہے؟" ماہین نے دروازہ کھولا۔

"کیونکہ وہ خود کو نہ جانے کیا سمجھتا ہے۔" "شاید وہ ایسا ہو ہی نہیں۔" ماہین نے گاڑی سے اترتے ہوئے جواب دیا۔ "مجھے تو ایسا ہی لگا تھا۔" دونوں اندر داخل ہو گئیں۔

گھر میں کافی رونق تھی۔ خاندان کے کئی لوگ موجود تھے۔ عورتیں ایک طرف بیٹھی باتیں کر رہی تھیں اور مرد دوسری طرف۔

ماہین نے سب کو سلام کیا اور اپنی امی کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔ ابھی چند ہی منٹ گزرے تھے کہ دروازہ دوبارہ کھلا۔

ماہین کی نظر بے اختیار دروازے کی طرف اٹھ گئی۔ ایک لمبا سا لڑکا اندر داخل ہوا۔

سیاہ شرٹ، گہرے رنگ کی جینز، ہاتھ میں گاڑی کی چابیاں اور چہرے پر ہمیشہ کی طرح سنجیدگی۔ حیان۔ ماہین نے فوراً نظریں ہٹا لیں۔ "یا اللہ، یہ بھی آ گیا۔"

عائزہ نے اس کی بات سن لی اور ہنسی روکنے کی کوشش کرنے لگی۔ حیان سب کو سلام کرتا ہوا آگے بڑھا۔

چند لوگوں سے ہاتھ ملانے کے بعد اس کی نظر اچانک ماہین پر پڑی۔ صرف چند سیکنڈ۔ دونوں کی نظریں ملیں۔ ماہین نے فوراً دوسری طرف دیکھ لیا۔

لیکن حیان کی نظریں چند لمحے اور وہیں ٹھہری رہیں۔ پھر وہ خاموشی سے آگے بڑھ گیا۔

ماہین نے دل ہی دل میں کہا:

"کتنا عجیب انسان ہے۔" کچھ دیر بعد سب لوگ کھانے کے لیے بیٹھ گئے۔ ماہین ایک طرف بیٹھی تھی۔ اس کے سامنے والی کرسی خالی تھی۔

پھر کسی نے حیان سے کہا:

"حیان، تم وہاں بیٹھ جاؤ۔" حیان آ کر اسی خالی کرسی پر بیٹھ گیا۔ ماہین کے ہاتھ رک گئے۔ اس نے آہستہ سے عائزہ کی طرف دیکھا۔ عائزہ نے نظریں جھکا کر مسکراہٹ چھپا لی۔ ماہین نے اسے آنکھیں دکھائیں۔

کھانے کے دوران سب لوگ باتیں کر رہے تھے، مگر حیان بالکل خاموش تھا۔ ماہین نے اسے ایک بار دیکھا۔ پھر دوسری بار۔

تیسری بار جب اس نے دیکھا تو حیان پہلے ہی اسے دیکھ رہا تھا۔ ماہین گھبرا گئی۔ "کیا ہے؟" حیان نے پرسکون لہجے میں پوچھا: "کیا؟" "آپ مجھے کیوں دیکھ رہے ہیں؟" حیان نے چند لمحے اسے دیکھا۔

پھر بالکل سنجیدگی سے بولا:

"میں دیکھ نہیں رہا تھا۔" ماہین نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں۔ "میں نے خود دیکھا ہے۔" "تو پھر شاید آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔" ماہین کے چہرے پر ناگواری آ گئی۔ "آپ ہر بات ایسے ہی کرتے ہیں؟" حیان نے چمچ میز پر رکھتے ہوئے کہا: "کیسے؟" "ایسے..." "ایسے کیسے؟" ماہین کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ خاموش ہو گئی۔ حیان کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔

Read the full episode